برطانوی عدالت نے اسکاٹ لینڈ حکومت کے ریفرنڈم کو پارلیمنٹ سے مشروط کردیا

لندن (ایچ آراین ڈبلیو) برطانیہ کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ حکومت برطانوی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگلے سال آزادی پر دوسرا ریفرنڈم نہیں کروا سکتی۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی عدالت کے فیصلے سے قوم پرستوں کی 2023 میں ووٹنگ کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ آزادی کی حامی اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این) کی رہنما اسکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے رواں برس کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 19 اکتوبر 2023 کو ایک مشاورتی آزادی ووٹ کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن اسے قانونی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ تاہم لندن میں برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایک اور رائے شماری کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ یہ ایک جنریشن میں ایک ہی دفعہ ہونا چاہے۔ پول بتاتے ہیں کہ ووٹرز یکساں طور پر تقسیم رہتے ہیں کہ آیا وہ آزادی کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں اور ووٹ بلانے کے بہت قریب ہوگا۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے صدر رابرٹ ریڈ نے کہا کہ اسکاٹش پارلیمنٹ کے پاس اسکاٹش کی آزادی پر ریفرنڈم کے لیے قانون سازی کا اختیار نہیں ہے۔