عمران خان نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی کیس میں درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے محفوظ کرلیا۔ عمران خان کی جانب سے مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کیے جانے پر نااہلی کیس کی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزار شہری ساجد کے وکیل کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں معاونت کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں دو متضاد آرا رہیں کہ اس کا فورم الیکشن کمیشن ہے یا ہائیکورٹ ؟ ۔ فیصل واوڈا کیس میں ہم نے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا ۔ اس میں بہت سے کیس لاز ہیں، دونوں سائیڈز کی آرا ہیں۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن کے فیصلے بھی موجود ہیں۔ وکیل نے خواجہ آصف نااہلی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ تینوں پوائنٹس عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل واوڈا کے خلاف جھوٹے بیان حلفی کا کیس تھا ۔ ہائی کورٹ نے اگر نااہلی کا آرڈر کرنا ہو تو کس آرٹیکل کے تحت کرے گی ؟۔ عدالت نے استفسار کیا کہ خواجہ آصف کی نااہلی ہائی کورٹ نے کس آرٹیکل کے تحت کی تھی ؟ ، جس پر وکیل نے بتایا کہ 62 ون ایف کے تحت ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی نے غلط بیان حلفی دیا ہے تو اس کے اپنے اثرات ہیں۔ وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ طلال چودھری، یوسف رضا گیلانی کے کیسز کی طرح نااہلی ہو سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں تو عمران خان استعفا دے چکے ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ رکن اسمبلی کے طور پر عمران خان اب بھی تمام سہولیات لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ نے اگر نااہلی کا آرڈر دینا ہے تو کس بنیاد پر دے گی؟ فیصل واوڈا کیس میں نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا ۔ واوڈا کیس میں غلط بیان حلفی سپریم کورٹ احکامات کی خلاف ورزی میں تھا۔ عمران خان کے کیس میں کس قانون کے تحت نااہلی ہو گی؟۔ خواجہ آصف کو کس بنیاد پر پہلے نااہل کیا گیا تھا ؟۔ خواجہ آصف کیس کا فیصلہ اگرچہ بعد میں کالعدم ہوا مگر نااہلی کس پر ہوئی تھی؟۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی بیان حلفی غلط ثابت ہوا تو بندہ صادق اور امین نہیں رہتا۔ اگر کوئی غلط بیان حلفی نکلا اس کے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔ نااہلی کی مدت کا تعین کرنے کا معاملہ تو سپریم کورٹ میں بھی ہے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 5 سال کی نااہلی کی طرف جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 5 سال تو اسمبلی کی جاری مدت کے لیے نااہلی ہوتی ہے۔ اس اسمبلی سے تو عمران خان خود استعفا دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈر جاری کریں گے کہ اس کیس کا فورم کیا ہونا چاہیے۔آپ فیصلوں کی کاپیاں دے دیں، میں اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا، جس پر وکیل نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کاپی پیش کر دی۔ بعد ازاں عدالت نے عمران خان نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔