یورپی یونین نے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سندھ فوڈ اتھارٹی کے حوالے کر دی

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو) سندھ کے وزیر برائے خوراک مکیش کمار چاولہ نے کہا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے قیام کا مقصد سندھ کے عوام کو ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب یقینی طور پر سندھ فوڈ اتھارٹی کو اپنے کام کو مزید موثر طریقے سے انجام دینے میں مدد دے گی۔
یہ بات انہوں نے آج ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و انسداد منشیات کے دفتر میں منعقدہ ایک تقریب میں کہی۔ تقریب میں پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رینا کیونکا نے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی چابیاں سندھ فوڈ اتھارٹی کے حوالے کیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موبائل فوڈ ٹسٹنگ لیب کی سندھ فوڈ اتھارٹی کو حوالگی دیہی ترقی اور پائیدار ترقی (GRASP) منصوبے کے تحت کی گئ ہے اور اسں میں انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (ITC) نے مالی معاونت فراہم کی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری خوراک راجہ خرم شہزاد عمر، ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی عمران بھٹی اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رینا کیونکا نے کہاکہ یورپی یونین سندھ میں خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس مقصد سے وابستہ ہیں۔ ہم خوراک کی حفاظت کو نہ صرف صحت عامہ کے تناظر میں بلکہ اقتصادی طور پر بھی اہم دیکھتے ہیں۔ محفوظ معیار کی مصنوعات زراعت کے شعبے کے لیے نئی اور نمایاں منڈیوں تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔2020 میں سندھ اور بلوچستان کے فوڈ اتھارٹیز کے جائزے کے بعد، GRASP نے دونوں صوبوں کو فوڈ سیفٹی کے معیارات پر عمل درآمد میں مدد کے لیے موبائل فوڈ ٹیسٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کی تھی تاکہ کھانے پینے کی اشیاء کی مجموعی معیار کو یقین بنایا جاسکے۔ مذکورہ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب کو کھانے پینے کی اشیاء کے فروخت کے مقامات پر آلودگی کی جانچ پڑتال کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ اس بات یقینی بنایا جا سکے کہ کھانے پینے کی اشیاء ملاوٹ سے پاک ہیں اور خاص طور پر پراسیسڈ فوڈز، غیر اعلانیہ اجزاء سے پاک ہیں، درست طور پر لیبل لگے ہوئے ہیں اور متعلقہ فوڈ سیفٹی معیارات اور قواعد کے مطابق ہیں۔ وین ٹیسٹنگ ٹکنالوجی اور دیگر ضروری عملے سے پوری طرح لیس ہے اور ایک پروگرام کے تحت سندھ فوڈ اتھارٹی کے حکام کو اتھارٹی کے ریگولیٹری اور آپریشنل فریم ورک کی حمایت اور جائزہ لینے کے علاوہ، ممکنہ بین الاقوامی برآمدات سمیت وسیع تر مارکیٹ تک رسائی کی ضرورت کے سلسلے میں سینیٹری اور فائٹوسینٹری (SPS) کے تعمیل کے امور پر بھی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔