آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے سیمینارکا انعقاد

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے سیمینارکا انعقادحسینہ معین ہال میں کیا گیا۔ سیمینار کے مقررین میں سیکرٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی، یاسین آزاد ایڈووکیٹ، نائلہ شریف لندن، جمشید حسین، سردار نزاکت مقصودالزماں اور بشیر سدوزئی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر یاسین آزاد ایڈوکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ میں رہ گیا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان اور ہندوستان کے باہمی فیصلہ سے ہو گا۔ اس کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انیس سو چالیس لے کر اب تک جو بھی حکومتیں آئی ان میں سے کسی نے اس معاملہ کو کبھی آگے نہیں بڑھایا کسی نے انٹرنیشنل بورڈ میں جاکر کیا درخواست دی؟ آپ دیکھیں کیا پاکستان جنگ لڑنے کی صورتحال میں ہے ہم جذباتی طور پر کہتے ہیں کہ ہم جہاد کریں گے کتنے لوگ جہاد کے لیے جاتے ہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم نے ان پچھتر سالوں میں کشمیر کے لیے کیا کیا۔ سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی نے کہا کہ بڑی اچھی تقاریر سننے کو ملی تمام لوگوں نے اپنے اپنے اندازمیں اس محفل کو گرما یا۔ انگریز نے خوشی سے اس ملک کوالگ نہیں کیا تھا وہ چاہتے تھے کسی نہ کسی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان میں نفرتیں قائم رہے اور دونوں ممالک ہماری طرف دیکھے اصل بیچ بو یا ہوا انگریزوں کا تھا ۔سردار نزاکت نے سیمینار سے کہا کہ آج ایسا دن ہے کہ کراچی سے لے کر کشمور اور کشمور سے لیکر کشمیر تک لوگ کشمیر سے یک جہتی کرتے ہیں کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس کو پوراپاکستان ایک قوم کو بن کردیکھتا ہے۔ جمشید حسین نے سیمینار سے کہا کہ کشمیریوں پر کیے جانے والے مظالم کے خلاف ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ احمد شاہ صاحب ہمیشہ سے کشمیر کے حوالے سے مختلف پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے لوگوں کو حق دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انسان ہونے کی وجہ سے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کے لیے بولیں۔ بشیر سدوزئی نے کہا کہ شاہ صاحب کی سرپرستی میں آرٹس کونسل نے ترقی کی ہیں۔پاکستان کے مختلف ادارے یوم یکجہتی منا رہے ہیں۔ احمد شاہ آرٹس کونسل میں بھی اس حوالے سے سیمینارمنعقد کرتے رہتے ہیں تا کہ ہم دنیا کو بتا سکے ہم کشمیر کے ساتھ ہیں۔کشمیر میں ہونے والے مظالم کے حوالے سے تصاویر کی نمائش بھی ہیں تاکہ لوگ کشمیر کے درد سے آگاہ ہوسکے۔ مقصود الزماں نے سیمینار سے کہا کہ یک جہتی کے معنی دیکھے جاتے تو کسی کے ساتھ بغیر مطلب کے کھڑے ہو کر ان کی مدد کرنا ہے اس وقت کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ایک نیا سلسلہ شروع کیا۔ کیا ہم یہ دن اسی طرح مناتے رہے گے کیا کشمیری ایسے ہی قربانیاں دیتے رہے گے ہم نے کشمیر کے مسئلے کو انڈیا اور پاکستان کا مسئلہ بنا دیا ہے۔نائلہ شریف نے سیمینار سے کہا کہ یہ دن ہر سال آتا ہے اور ہم یکجا ہو کر اس پروگرام کو آگے پہنچاتے ہیں۔ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان کی شہ رگ کشمیر ہے پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہے انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ پوری آزادی سے رہے۔ ہم ہر طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ ان کی آواز اور قربانیوں کو زندہ رکھیں۔ سیمینار میں بھارتی بربریت پر مبنی مظالم کی تصویری نمائش کا بھی انعقادکیا گیا ۔آخر میں پانچ فروری کی مناسبت سے مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔مشاعرے کی صدارت سید ساجد رضوی نے کی۔