اردن کے بادشاہ کی امریکی صدر سے ملاقات، غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو) اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم اور امریکی صدر جوبائیڈن نے رفح میں فلسطینیوں کی بحفاظت انخلا سے قبل اسرائیلی فوج سے فضائی اور بری حملے نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کے شاہ عبد اللہ دوم امریکی صدر سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے اور غزہ کی موجودہ صورت حال بالخصوص اسرائیل کے رفح میں بڑی فوجی کارروائی سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل کو رفح سے فلسطینی پناہ گزینوں کی محفوظ مقام منتقلی تک فضائی اور برّی حملوں کے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ میں سیز فائر کا مطالبہ بھی کیا اور فلسطین میں امن و استحکام کے لیے فریقین کے لیے قابل قبول پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔ امریکا روانگی سے قبل اردن کے بادشاہ اور مسجد اقصیٰ کے کسٹوڈین شاہ عبداللہ دوم نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کی ترسیل کا جائزہ لیا تھا اور صورت حال کو خوفناک قرار دیا تھا۔ امریکا کے بعد شاہ اردن دیگر مغربی ممالک کے دورے پر بھی جائیں گے جہاں وہ غزہ میں امداد کی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں اور سیز فائر پر عالمی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل رفح میں فوجی آپریشن کے منصوبے کو وہاں پناہ لینے والے 10 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی حفاظت اور مدد کو یقینی بنانے بغیر شروع نہ کرے۔ اسرائیل کی غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ 67 ہزار زخمی ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہیں۔