پنجاب حکومت کا رواں برس سستے رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) نومنتخب پنجاب حکومت نے سبسڈی سے چلنےوالے رمضان بازاروں کا منصوبہ ختم کردیا۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے منصوبے میں سبسڈی پر رمضان بازار لگائے جاتے تھے، نئی حکومت نے مستحقین کو گھر کی دہلیز پر گفٹ ہیمپر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رمضان بازاروں سے مستفید ہونے والے سفید پوش اور عام صارفین کونظر انداز کردیا گیا، اب سابق وزیر اعلیٰ کی روایت کےبرعکس صرف مستحقین کو گفٹ پیکیجز ملیں گے، ماہ صیام میں اس بار لاہور سمیت پنجاب بھر میں 313 سبسڈائزڈ بازار نہیں لگیں گے۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے ماڈل بازاروں میں ایگریکلچر فیئر پرائس شاپس فعال کی جائیں گی، ماڈل بازاروں میں 25 فیصد رعایتی قیمت پر سبزیاں اور پھل فروخت ہوں گے، صوبائی دارالحکومت میں بھی معمول کے 31 رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد عام صارف ماہ مقدس میں سرکاری ریلیف سے محروم رہے گا، ضلعی انتظامیہ کو رمضان نگہبان سکیم کو فعال کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ رمضان نگہبان پیکیج کے تحت لاہور ڈویژن میں10لاکھ 10ہزار 146مستحقین کو گفٹ ہیمپرز ملیں گے، لاہور میں 4 لاکھ 58 ہزار اور قصور میں 43 ہزار 924 افراد سکیم میں شامل ہیں، شیخوپورہ میں 58ہزار 193 اور ننکانہ صاحب میں 32 ہزار مستحقین کو پیکیج میں شامل کیا جائے گا۔ کمشنر لاہور ڈویژن محمد علی رندھاوا کا کہنا ہے کہ تمام اضلاع میں حسب ضرورت مجسٹریٹس کی تعداد بڑھا سکتے ہیں، پرائس کنٹرول کے معاملے میں مجسٹریٹس کی غفلت پر زیرو ٹالرنس ہے، مسنگ رابطہ نمبرز، ایڈریسز،شناختی کارڈز مینوئل انداز میں معلوم کیے جائیں گے۔